اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق اٹلی کے شہر تورینو کے عوام نے ممتاز اسلامی عالم محمد شاہین کی حمایت میں مسجدِ سالوتسو اسٹریٹ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے امام شاہین کی فوری رہائی اور ملک بدری کے فیصلے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
محمد شاہین کو حال ہی میں وزیر داخلہ اٹلی ماتیو پیانتیدوسی کے حکم پر حراستی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں وہ اس وقت زیرِ حراست ہیں اور انہیں اٹلی سے بے دخل کیے جانے کا بھی شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ کارروائی ان کے اس بیان کے بعد کی گئی جس میں انہوں نے "طوفان الاقصیٰ" کو فلسطینی مزاحمت کا اظہار قرار دیا تھا۔
احتجاج میں سان سالواریو کے کثیر الثقافتی علاقے کے رہائشیوں کے ساتھ کیتھولک چرچ کے نمائندے، سماجی تنظیمیں اور مزدور یونینز بھی شریک ہوئیں۔ مظاہرین نے مسجدِ سالوتسو کے باہر جمع ہو کر امام شاہین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
اس موقع پر بین المذاہب مکالمے سے وابستہ متعدد مذہبی رہنماؤں، جن میں پینیرولو کے بشپ اور دیگر کلیسائی سربراہان شامل ہیں، نے صدرِ اٹلی سرجیو ماتاریلا کو ایک مشترکہ خط ارسال کیا، جس میں خبردار کیا گیا کہ محمد شاہین کی ملک بدری سے تورینو میں برسوں سے جاری بین المذاہب ہم آہنگی، سماجی سرگرمیوں اور تعلیمی روابط کو شدید نقصان پہنچے گا۔
خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مسجدِ سالوتسو ایک فعال اسلامی مرکز ہے جو مقامی آبادی، تعلیمی اداروں اور مذہبی تنظیموں کے ساتھ قریبی تعاون کرتا ہے۔ یہاں اطالوی آئین کے تعارف سمیت سماجی شعور اجاگر کرنے کے متعدد تعلیمی پروگرام بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔
مسلم سماجی کارکنوں اور امام جماعت گابریل یونگو نے بھی اس موقع پر کہا کہ امام شاہین کی موجودگی پسماندہ محلّوں میں جرائم کے خاتمے، نوجوانوں کی اصلاح اور سماجی استحکام میں نہایت مؤثر رہی ہے۔ ان کے مطابق امام شاہین کی ملک بدری نہ صرف امنِ عامہ کو نقصان پہنچائے گی بلکہ ان کی تعلیمی اور بین الثقافتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوں گی۔
دوسری جانب اطالوی وزارتِ داخلہ نے امام محمد شاہین کو ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے ان پر اخوان المسلمون سے وابستگی کا الزام عائد کیا ہے، تاہم بین المذاہب مکالمے سے وابستہ شخصیات ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے امام شاہین کو ایک اعتدال پسند، امن کے داعی اور مصالحت کار عالم قرار دیتی ہیں۔
فی الحال محمد شاہین کا مقدمہ عدالتی جانچ کے مرحلے میں ہے، جبکہ تورینو میں مسلم برادری اور دیگر مذہبی حلقوں کی جانب سے ملنے والی بھرپور حمایت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ ان کی سماجی موجودگی کو شہر کے امن اور ہم آہنگی کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
آپ کا تبصرہ